کراچی سے شروع ہونے والا سفر ٹھٹہ حیدرآباد میرپور خاص ڈگری سومارو مٹھی نواب شاہ سے ہوتا ہوئے سفر کا ایک دن ابھی باقی ہے

میرے زندگی کے اہم ترین لمحات میں سے ایک ہیں

سندھ جہاں آپس میں اتنی نفرتیں تھیں زبان رنگ لباس مذہب کو لیکر

میری پارٹی جو کہتی رہی ہے کے ہمیں نفرتوں کو ختم کرنا ہے بھائی کو بھائی سے ملانا ہے

وہ ہم نے اس دورہ میں کر کر دکھادیا بھائی کو بھائی سے ملادیا نفرتوں کی سیاست کو ختم کردیا

ایک شخص لندن میں بیٹھ کر شراب کے نشے میں بیٹھ کر سندھ میں ایک بیان دے کر چنگاری چھوڑدیتا تھا

جس سے ہزاروں میل دور سندھ میں بیٹھا مہاجر یہ اردو بولنے والا شرمندہ شرمندہ گھومتا تھا

لوگ اس شخص کے بیان پر اس دور بسنے والے اردو بولنے والے کو نفرت سے دیکھتے تھے

مجھے اپنی کمیونٹی کو اس شخص سے الگ کرنا تھا اور بھائی کو بھائی سے ملانا تھا

پورے سندھ نے ہمارے استقبال میں اتنی بڑی تعداد میں آکر مجھے میرے مقصد میں کامیاب کردیا

14اگست پہ الطاف حسین کےکہنے پہ پاکستان میں کسی نےایک جھنڈا بھی نہیں جلایا یہی ہماری کامیابی ہے.

سندھ میں ہسپتالوں اسکولوں کی تباہ حال حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو رودیا

جہاں جانور پانی پی رہا ہے وہاں سے ہی انسان پانی پی رہا ہے

سندھ میں ہمارے بچے خوراک نہ ملنے کی وجہ سے مر رہے ہیں

ہمارے نوجوان روزگار نہ ملنے کی وجہ سے خود کشیاں کر رہے ہیں

ڈھائی لاکھ بچے سندھ میں اسکول نہی جا رہے

میں اور میری پارٹی یہ ظلم ہوتا ہوا نہی دیکھ سکتی

ہم اس وقت کے تمام فرعونوں سے لڑنے کو تیار ہیں چاہے وہ فرعون ملک سے باہر ہوں یہ اندر

اگر کوئی بھی حکومت اس کو سدھارنے کے لیئے کام کرے گی تو پاک سرزمین پارٹی اس کا ساتھ دے گی

ہمارے پاس پانچ سو سے زائد دیگر پارٹیوں کے لوگوں کو آج شمولیت پر مبارکباد دیتا ہوں

کل سٹی کؤنسل حیدرآباد میں کرپشن پر جو منظر دیکھا کے ایک یوسی چیئرمین میئر کو چور بول رہا ہے

حیدرآباد میں صرف کرپشن ہورہی ہے بلدیات میں ایم کیو ایم کا رومانس عوام کے ساتھ نہی ہے بلکہ پیسہ کے ساتھ ہے

یہ اس بھول میں ہیں کے مہاجر پتنگ کا نشان دیکھ کر گھر کے اندر جمع گٹر کے پانی کو اور نلکوں میں نہ آنے والے پانی کو بھول جائے گا

گلی گلی جمع کچرے کو بھول جائے گا پیٹ میں جو روٹی نہی ہے مہاجر کے وہ بھول کر ان کے پیچھے چل پڑے گا

نہی مہاجر اتنا جاہل نہی ہے جوتے مارے گا اس بار انکو اور اپنے مینڈٹ کا حساب مانگے گا اس بار

الطاف حسین اپنے بچے کھانے والا انسان ہے وہ ندیم نصرت یہ واسع جلیل کو کیسے چھوڑ دیتا

کتنی تانیہ روز اس ظلم کا پورے سندھ میں شکار ہورہی ہیں کیا ہر جگہ چیف منسٹر جاسکتے ہیں

جب تک اختیارات نیچے تک نہیں منتقل ہونگے تو عوام کا استحسال ہوتا رہے گا

آخر میں سندھ کی عوام کا دل سے مشکور ہوں جنہوں نے ہمیں اتنا پیار دیا

اور انشاللہ میرا وعدہ ہے سندھ کی عوام سے کے میں ان کے خلاف ہونے والے ظلم کےخلاف آواز بنیں گے

اور آپ نے بھی ہماری وقت کے فرعونوں سے اس جنگ میں ہمارا ساتھ دینا ہے